سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
حدیث نمبر: 3061
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، نَا ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ ، نَا حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ " ، قَالَ اللُّغَوِيُّونَ : هُوَ النَّسِيئَةُ بِالنَّسِيئَةِ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ روایت نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کالئی کے عوض میں کالئی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے۔ اہل لغت نے یہ بات بیان کی ہے: اس سے مراد ادھار کے عوض میں ادھار سودا کرنا ہے۔