سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قُلْتُ : إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا دِينَارٌ وَلا دِرْهَمٌ ، وَإِنَّمَا نَبْتَاعُ الإِبِلَ وَالْغَنَمَ إِلَى أَجَلٍ فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبِلا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ حَتَّى نَفِدَتْ وَبَقِيَ أُنَاسٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِ لِي إِبِلا بِقَلائِصَ مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ ، فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالاثْنَيْنِ وَالثَّلاثِ قَلائِصَ حَتَّى فَرَغْتُ ، فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " .عمرو بن حریش بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو سے سوال کیا: ہم ایسی جگہ رہتے ہیں، جہاں دینار درہم کا رواج نہیں ہے، ہم لوگ مقررہ مدت کے بعد ادائیگی کی شرط پر اونٹ اور بکریاں خرید لیتے ہیں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: تم نے ایسے شخص سے سوال کیا ہے، جو اس بارے میں جانتا ہے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لیے صدقوں کے اونٹوں میں سے اونٹ دیے، یہاں تک کہ اونٹ ختم ہو گئے، لیکن کچھ لوگ بچ گئے، جن کے پاس سواری کے لیے جانور نہیں تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہمارے لیے کچھ اونٹ خرید لو، جو جوان اونٹنیوں کے عوض میں ہوں گے، جو صدقے کے طور پر وصول ہوں گی، جب صدقات آئیں گے، تو ہم ان لوگوں کو وہ ادائیگی کر دیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے دو یا تین جوان اونٹنیوں کے عوض میں ایک اونٹ خریدا، یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں سے اس کی ادائیگی کی۔