حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، نا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، يَعْنِي عَلَى عُثْمَانَ مَنْزِلَهُ ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَتَمَضْمَضُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ ، قَالَ : أَلا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَاءٍ وَهُوَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ فَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَنَثَرَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا " ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمُوهُ " .ابن دارہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے گھر داخل ہوا، انہوں نے میری آواز سنی کہ میں کلی کر رہا ہوں تو آواز دی: ”اے محمد!“ میں نے کہا: ”میں حاضر ہوں!“ انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اچھی طرح یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا گیا، آپ اس وقت صحن میں تشریف فرما تھے، آپ نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا، تین، تین مرتبہ دونوں بازوؤں کو دھویا، تین مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، تین، تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور (پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے) یہ بات بیان کی: ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح ہے، میں نے یہ بات پسند کی کہ میں تمہیں یہ دکھا دوں۔‘“