سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ، نَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ثُمّ قَالَ : " بَيْنَمَا رَكْبٌ فِيهِمْ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ زَعِيمَ الْحَيِّ لَسَلِيمٌ يَعْنِي لَدِيغًا ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : بِمَ رَقَيْتَهُ ؟ قَالَ : رَقَيْتُهُ بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ؟ فَلَمْ يَقْرَبُوا شَيْئًا مِمَّا أَصَابَ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، فَحَدَّثَهُ الرَّجُلُ بِمَا صَنَعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، يَعْنِي أُمَّ الْكِتَابِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، أُخْرِجَ فِي الصَّحِيحِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کچھ صحابہ کرام کہیں جا رہے تھے، ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا: ”اس قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا ہے، کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟“ تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے، انہوں نے سردار پر دم کیا، اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی، پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”آپ نے کس چیز کے ذریعے دم کیا تھا؟“ تو انہوں نے بتایا کہ ”میں نے سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا تھا۔“ تو ان ساتھیوں نے کہا: ”آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے؟“ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جو انہیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔“ تو ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جو انہوں نے کیا تھا (یعنی سورہ فاتحہ کا دم کیا تھا)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟“ یعنی سورہ فاتحہ کا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم جس بھی چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو، اس میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔“ یہ حدیث صحیح میں نقل کی گئی ہے۔