سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ قَنَّةَ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً عَلَيْهَا أَبُو سَعِيدٍ ، فَمَرَّ بِقَرْيَةٍ فَإِذَا مَلِكُ الْقَرْيَةِ لَدِيغٌ ، فَسَأَلْنَاهُمْ طَعَامًا فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُنْزِلُونَا ، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يُحْسِنُ أَنْ يَرْقِيَ ؟ إِنَّ الْمَلِكَ يَمُوتُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَأَفَاقَ وَبَرَأَ ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِالنُّزُلِ وَبَعَثَ إِلَيْنَا بِالشَّاءِ ، فَأَكَلْنَا الطَّعَامَ أَنَا وَأَصْحَابِي ، وَأَبَوْا أَنْ يَأْكُلُوا مِنَ الْغَنَمِ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَيْءٌ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي ، قَالَ : فَكُلُوا وَأَطْعِمُونَا مِنَ الْغَنَمِ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، جس کے امیر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے، ان کا گزر ایک بستی پر سے ہوا، جس کے امیر کو کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا تھا، ہم نے ان لوگوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے انکار کر دیا، ہمیں پڑاؤ بھی نہیں کرنے دیا (ہم نے بستی سے باہر پڑاؤ کیا)، اس بستی کا ایک فرد ہمارے پاس سے گزرا، تو بولا: ”اے اہل عرب! کیا تم میں سے کسی شخص کو دم کرنا آتا ہے؟ ہمارا سردار مر رہا ہے۔“ تو سیدنا ابوسعید خدری نے فرمایا: میں اس کے پاس آیا اور میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا، ان لوگوں نے ہماری طرف کھانے کا سامان بھیجا اور بکریاں بھیجیں، میں نے اور میرے ساتھیوں نے کھانا کھا لیا، لیکن میرے ساتھیوں نے ان بکریوں (کو ذبح کرنے یا ان کا گوشت کھانے سے) انکار کر دیا، یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے دریافت کیا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ بات میرے ذہن میں آ گئی تھی۔“ تو نبی نے فرمایا: ”تم ان بکریوں (کا گوشت) کھاؤ اور اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ۔“