سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا حَيًّا مِنَ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ ، فَقَالُوا : أَفِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ ؟ ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا فَلا نَفْعَلُ أَوْ تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ ، فَقَالُوا : لا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ رُقْيَةٌ ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے ان حضرات کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان لوگوں کے سردار کو کسی (زہریلے جانور نے) کاٹ لیا، ان لوگوں نے دریافت کیا کہ ”آپ کے پاس اس کی کوئی دوا ہے یا کوئی دم کرنے والا ہے؟“ تو ان حضرات نے کہا: ”تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے ہم تو ایسا نہیں کریں گے، یا پھر یہ ہے کہ تم اس کا ہمیں معاوضہ ادا کرو۔“ تو ان لوگوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ معاوضہ مقرر کیا، تو انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی، وہ اپنا لعاب منہ میں اکٹھا کرتے اور (جانور کی کاٹی ہوئی جگہ) پر ڈال دیتے، تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا، وہ لوگ بکریاں لے کر ان کے پاس آئے (تو ان میں سے بعض حضرات نے) یہ کہا: ”ہم انہیں اس وقت تک (استعمال نہیں کریں گے)، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لیں۔“ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کے ذریعے دم بھی ہوتا ہے؟ تم انہیں استعمال کرو اور ان میں میرا حصہ بھی رکھو۔“