ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا أَبُو الْجَمَاهِرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، مَرَّا بِأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ عَلَى الْعِرَاقِ مُقْبِلِينَ مِنْ أَرْضِ فَارِسٍ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِابْنَيْ أَخِي ، لَوْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ أَوْ كُنْتُ أَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ، وَيْلِي هَذَا الْمَالَ قَدِ اجْتَمَعَ عِنْدِي ، فَخُذَاهُ فَاشْتَرِيَا بِهِ مَتَاعًا ، فَإِذَا قَدِمْتُمَا عَلَى عُمَرَ فَبِيعَاهُ وَلَكُمَا الرِّبْحُ ، وَادْفَعَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رَأْسَ الْمَالِ وَاضْمَنَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، تَأَبَّا أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ وَجَعَلَهُ قِرَاضًا " .عبداللہ بن زید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دو صاحبزادے عبداللہ اور عبیداللہ کا گزر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، جو عراق میں (گورنر کے فرائض سرانجام دے رہے) تھے، یہ دونوں حضرات ایران کی سرزمین سے آ رہے تھے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے فرمایا: ”میرے دونوں بھتیجوں کو خوش آمدید! کاش میرے پاس کوئی چیز ہوتی (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: کاش میں کسی چیز پر قدرت رکھتا)، جو میں تمہیں دے سکتا!“ ہاں البتہ میرے پاس یہ مال اکٹھا ہوا ہے، تم اسے لو، اس کے ذریعے سامان خریدو، جب تم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، تو اسے فروخت کر دینا، منافع تمہارا ہوا اور اصل مال تم سیدنا عمر کو ادا کر دینا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب یہ دونوں حضرات امیر المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا ابوموسیٰ نے تمام مہاجرین کی اولاد کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ”جی نہیں!“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”امیر المؤمنین اسے درست قرار نہیں دیں گے، انہوں نے اسے قراض کے طور پر دیا۔“