سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا : نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَتَنْزِلُ دَارَكَ بِمَكَّةَ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ؟ " ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ ، وَلَمْ يَرِثْ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا ، لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرِينَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : " وَكَانُوا فِي ذَلِكَ يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا سورة الأنفال آية 74 إِلَى قَوْلِهِ : مِنْ وَلايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ سورة الأنفال آية 72 ".سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام کریں گے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر یا جگہ چھوڑی ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ وہ اور طالب دونوں (ابوطالب کے وارث ہوئے تھے) جبکہ سیدنا علی اور سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہما ان کے وارث نہیں ہوئے تھے کیونکہ یہ دونوں حضرات مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: اہل علم اللہ کے اس فرمان سے یہ مراد لیتے ہیں: ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے۔“