سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
حدیث نمبر: 3029
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْمَخْرَمِيُّ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالا : نَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مِيرَاثٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! کل آپ کہاں پڑاؤ کریں گے؟“ اگر اللہ نے چاہا (راوی بیان کرتے ہیں: یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے وراثت میں ہمارے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔