سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
حدیث نمبر: 3028
ثنا الْقَاسِمُ ، وَالْحُسَيْنُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيِّ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، نَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قِيلَ : أَيْنَ تَنْزِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مَنْزِلِكُمْ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا ، لا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " .محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! آپ کہاں پڑاؤ کریں گے، کیا اپنے گھر میں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل (بن ابوطالب) نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟ (کیونکہ) کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بنتا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔“