سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ثنا عَلِيٌّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا زيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ شَيْخًا ، يُقَالُ لَهُ : سُرَّقٌ ، فَقُلْتُ : " مَا هَذَا الاسْمُ ؟ ، فَقَالَ : اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ أَدَعَهُ ، قُلْتُ : لِمَ سَمَّاكَ ؟ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدُمُ فَبَايَعُونِي فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ ، فَأَتَوْا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " أَنْتَ سُرَّقٌ ، وَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي : مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ ، قَالَ : أُعْتِقُهُ ، قَالُوا : فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ مِنْكَ فِي الأَجْرِ ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ ، وَبَقِيَ اسْمِي " .زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا، جن کا نام سراق تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کیا نام ہوا؟ تو انہوں نے بتایا: میرا یہ نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے، میں اسے ترک نہیں کروں گا، میں نے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا یہ نام کیوں رکھا؟ تو انہوں نے بتایا: میں مدینہ منورہ آیا اور میں نے لوگوں کو بتایا کہ میرا مال آ رہا ہے، ان لوگوں نے میرے ساتھ کچھ سودے کیے، میں نے انہیں ادائیگیاں کرنی تھیں، وہ مال مجھ سے ضائع ہو گیا، وہ لوگ مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ”تم سراق ہو!“ پھر آپ نے مجھے چار اونٹنیوں کے عوض میں فروخت کروا دیا، ان قرض خواہوں نے مجھے خریدنے والے سے دریافت کیا: ”تم اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے بتایا: ”میں اسے آزاد کر دوں گا۔“ تو ان لوگوں نے کہا: ”ہمیں بھی اجر کی اتنی ضرورت ہے، جتنی تمہیں ہے۔“ تو ان لوگوں نے مل کر مجھے آزاد کر دیا، لیکن میرا یہ نام باقی رہ گیا۔