حدیث نمبر: 3026
ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، نَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ كَانَ فِي غَزَاةٍ فَسَمِعَ رَجُلا يُنَادِي آخَرَ ، يَقُولُ : يَا سُرَّقُ يَا سُرَّقُ فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : مَا سُرَّقٌ ؟ فَقَالَ : سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَيْتُ عَنْهُ فَاسْتَهْلَكْتُ ثَمَنَهَا ، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ يَطْلُبُنِي ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ : ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْدِي عَلَيْهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ : " اطْلُبْهُ " ، قَالَ : فَوَجَدَنِي فَأَتَى بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي ، فَقَالَ : " أَعْطِهِ ثَمَنَهَا " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَهْلَكْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنْتَ سُرَّقٌ " ، ثُمَّ قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ : " اذْهَبْ فَبِعْهُ فِي السُّوقِ وَخُذْ ثَمَنَ نَاقَتِكَ " ، فَأَقَامَنِي فِي السُّوقِ فَأَعْطَى فِيَّ ثَمَنًا ، فَقَالَ لِلْمُشْتَرِي : مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ قَالَ : أُعْتِقُهُ ، فَأَعْتَقَنِي الأَعْرَابِيُّ .
محمد محی الدین

زید بن اسلم کے صاحبزادے عبدالرحمن اور عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، انہوں نے کسی شخص کو سنا، جو کسی دوسرے شخص کو بلند آواز میں پکار رہا تھا: ”اے سراق، اے سراق!“ تو زید بن اسلم نے بلایا اور دریافت کیا: سراق سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے، میں نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹنی خریدی، پھر میں اس سے چھپ گیا، میں نے اس اونٹنی کی قیمت کو بھی ضائع کر دیا، وہ دیہاتی مجھے تلاش کرتا ہوا تھا، تو لوگوں نے اس سے کہا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤ۔“ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایک شخص نے مجھ سے اونٹنی خریدی اور پھر وہ مجھ سے چھپ گیا، میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے تلاش کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے مجھے ڈھونڈ لیا اور مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ وہ شخص ہے، جس نے مجھ سے اونٹنی خریدی تھی اور مجھ سے چھپ گیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قیمت ادا کرو۔“ تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! وہ تو مجھ سے ضائع ہو گئی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سراق ہو!“ پھر آپ نے دیہاتی سے فرمایا: ”تم جاؤ، اسے بازار میں فروخت کرو اور اپنی اونٹنی کی قیمت وصول کرو۔“ تو اس دیہاتی نے مجھے بازار میں کھڑا کیا، میری جو قیمت لگائی گئی، تو اس نے خریدار سے دریافت کیا: ”تم اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے بتایا: ”میں اسے آزاد کر دوں گا۔“ تو اس دیہاتی نے ہی مجھے آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3026
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2343، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3026، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 1875»