سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَصْنَعُ الطَّعَامَ يَدْعُو أَصْحَابَهُ هَذَا يَوْمًا وَهَذَا يَوْمًا ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي ، قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرَكَ طَعَامُنَا ، قَالَ : فَقَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الأُخْرَى ، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى السَّاقَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، هَذِهِ أَوْبَاشُ قُرَيْشٍ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا ، ثُمَّ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا ، قَالَ : وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَمْ يُشْرِفْ لَهُمْ أَحَدٌ إِلا أَنَامُوهُ ، قَالَ : وَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَتَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَيْهِ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ فَلا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَلْقَى سِلاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ " ، قَالَ : فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، كَلا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْنَا إِلا ضَنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ " .عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں: ہم ایک وفد کی شکل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم میں سے کوئی ایک شخص کھانا تیار کرتا تھا، پھر اپنے ساتھیوں کی دعوت کرتا تھا، ایک دن ایک شخص یہ کام کرتا، دوسرے دن دوسرا کر لیتا، جب میری باری آئی، میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنانی ہے، جب تک کھانا نہیں آتا؟“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لشکر کے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے دونوں حصوں میں ایک کا امیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو مقرر کیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دوسرے حصے کا مقرر کیا، لشکر کے پیچھے والے حصے کا امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو وادی کے نشیبی حصے میں تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! انصار کو میرے پاس بلاؤ۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں بلایا، تو وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار! یہ قریش کے اوباش لوگ کل جب تمہارے سامنے آئیں، تو تم انہیں پیس دینا ہے، ہماری تمہاری ملاقات صفا (پہاڑی) پر ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، اگلے دن جس شخص نے مقابلے کے لیے آنے کی کوشش کی، انہوں نے اسے مار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا (پہاڑی) پر تشریف لے آئے اور اس پر کھڑے ہوئے، ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اگر قریش کو اسی طرح مارا جاتا رہا، تو آج کے بعد قریش (کا نام و نشان) نہیں رہے گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا، اسے امان ہے، جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا، اسے امان ہے، جو شخص اپنا ہتھیار ڈال دے گا، اسے بھی امان ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصار نے یہ کہا: ”اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے، اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں وحی نازل کی گئی، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار! تم نے یہ کہا ہے: اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے، یاد رکھنا! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی، میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں یہ بات کہی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔“