سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَزيُّ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، كَذَا قَالَ : عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا ، وَأَكْلُ ثَمَنِهَا ، وَقَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ أَجْرِ بُيُوتِ مَكَّةَ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ نَارًا " ، كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ مَرْفُوعًا ، وَوَهِمَ أَيْضًا فِي قَوْلِهِ : عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ.سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم مقرر کیا ہے، یہاں کی زمین کو فروخت کرنا اور اس کی قیمت کھانا حرام ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص مکہ کے گھروں کے معاوضے (یعنی کرائے) میں سے کچھ بھی کھائے گا، وہ آگ کھائے گا۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس روایت کو اسی طرح مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے، تاہم اس میں انہیں وہم ہوا ہے، اس میں انہیں دوسرا وہم یہ ہوا کہ انہوں نے راوی کا نام عبیداللہ بن ابی یزید نقل کیا ہے، حالانکہ وہ ابن ابی زیاد ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔