سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُ ، " أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ وَكَانَ لا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِذَا بِعْتَ فَقُلْ : لا خِلابَةَ " مَرَّتَيْنِ " .نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک انصاری کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور اس کے ساتھ سودے میں ہمیشہ گھاٹا ہو جایا کرتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو دو مرتبہ یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا برداشت نہیں ہو گا۔“ سیدنا منقذ بن عمرو کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کی زبان میں اثر پڑا تھا، اور اس کی ذہنی کیفیت بھی کچھ تبدیل ہو گئی تھی، وہ تجارت کیا کرتے تھے اور تجارت میں ہمیشہ انہیں خسارہ ہوتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا نہیں ہو گا، پھر تم جس سامان کو خریدتے ہو، اس کے بارے میں تم تین دن تک اختیار رکھو گے، اگر تین دن کے بعد تم راضی ہوئے، تو اسے اپنے پاس رکھنا اور اگر پسند نہ ہوا، تو اس کے مالک کو واپس کر دینا۔“ ان صحابی کی عمر بڑی طویل ہوئی، وہ ایک سو تیرہ سال تک زندہ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ ہر طرف پھیل گئے تھے اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا تھا اور بازار میں خوب سودا ہوا کرتا تھا، اس وقت وہ بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔