حدیث نمبر: 3009
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُ وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي فِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، " احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَاهُ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ : هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ " .
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا، جو خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اس کی ذہنی حالت میں کچھ خرابی پائی جاتی تھی، ایک مرتبہ اس کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! آپ فلاں شخص کو تصرف کرنے سے روک دیں، کیونکہ وہ سودا کر لیتا ہے، لیکن اس کی ذہنی حالت میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے سودا کرنے سے منع کر دیا، تو اس نے عرض کی: ”میں خرید و فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے ضرور خرید و فروخت کرنی ہے، تو یہ کہا کرو: یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3009
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 619، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5049، 5050،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7153، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4490 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3501، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1250، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2354، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3009، 3010، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13480»
«قال الدارقطني: والمرسل أشبه ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (12 / 157)»