سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ ، رَجُلا ضَعِيفًا ، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا يَشْتَرِي ثَلاثًا ، وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِعْ ، وَقُلْ : لا خِلابَةَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ ، يَقُولُ : لا خِذَابَةُ ، لا خِذَابَةَ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن منقذ ایک عمر رسیدہ آدمی تھے، ان کے سر میں چوٹ لگی تھی، اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا تھا کہ وہ جو سودا کریں گے، اس میں تین دن تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہو گا، ان کی زبان میں کچھ لکنت پائی جاتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: ”تم فروخت کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ لفظ خلابہ کی بجائے خذابہ کہا کرتے تھے۔