حدیث نمبر: 3007
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " فِي الْبُيُوعِ ، قَالَ : مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ ، فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، إِنْ رَضِيَ أَخَذَ ، وَإِنْ سَخَطَ تَرَكَ " .
محمد محی الدین

طلحہ بن یزید کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے کچھ سودوں کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی (کہ ان کا حکم کیا ہے)، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تمہارے لیے ایسی کوئی چیز نہیں ملی، جو اس سے زیادہ گنجائش والی ہو، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو دی تھی، ان کی نظر کمزور تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی کہ وہ سودے کو کالعدم کرنے کا تین دن کا اختیار رکھے گا اور اگر وہ راضی ہوں گے، تو لے لیں گے، اگر پسند نہیں کریں گے، تو اس کو ترک کر دیں گے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3007
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10573، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3007، 3013»
«قال ابن حجر: مداره على ابن لهيعة وهو ضعيف ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 395)»