سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ وُهَيْبٍ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ ، قَالَتْ : خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ لَنَا : مَنْ أَنْتُنَّ ؟ ، قُلْنَا : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَتْ : فَكَأَنَّهَا أَعْرَضَتْ عَنَّا ، فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ مَحَبَّةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، " كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ وَأَنِّي بِعْتُهَا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ الأَنْصَارِيِّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ ، وَإِنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَابْتَعْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةِ دِرْهَمٍ نَقْدًا ، قَالَتْ : فَأَقْبَلَتْ عَلَيْنَا ، فَقَالَتْ : بِئْسَمَا شَرَيْتِ وَمَا اشْتَرَيْتِ ، فَأَبْلِغِي زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلا أَنْ يَتُوبَ ، فَقَالَتْ لَهَا : أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ مِنْهُ إِلا رَأْسَ مَالِي ؟ ، قَالَتْ : فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ سورة البقرة آية 275 " ، قَالَ الشَّيْخُ : أُمُّ مَحَبَّةَ وَالْعَالِيَةُ مَجْهُولَتَانِ لا يُحْتَجُّ بِهِمَا.یونس بن اسحاق اپنی والدہ عالیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں اور ام قحبہ خاتون مکہ گئیں۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے ہم سے دریافت کیا: آپ کون خواتین ہیں؟ ہم نے جواب دیا: ہم کوفہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب عالیہ بیان کرتی ہیں: تو گویا سیدہ عائشہ نے ہماری طرف توجہ نہیں کی۔ تو ام قحبہ نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! میری ایک کنیز ہے، میں نے اسے سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ سے آٹھ سو درہم کے عوض خریدا جب تک ان کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ پھر جب انہوں نے اس کنیز کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے چھ سو درہم نقد کے عوض اسے خرید لیا۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ہماری طرف متوجہ ہوئیں اور فرمائیں: ”تم نے بہت برا سودا کیا ہے۔ تم زید کو جا کر بتا دینا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جہاد کیا تھا اسے خراب کر لیا ہے، البتہ اگر وہ توبہ کر لیں تو حکم مختلف ہو گا۔“ تو اس خاتون نے سیدہ عائشہ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ان سے اپنی اصل رقم وصول کر لوں؟ تو سیدہ عائشہ نے یہ آیت تلاوت کی: ”جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ جائے اور وہ باز آ جائے تو جو پہلے ہو چکا ہے وہ اس کا ہو گا۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: قحبہ اور عالیہ نامی خواتین مجہول ہیں، ان کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔