حدیث نمبر: 2998
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ شُعَيْبًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ ابْتَاعَ مِنْ رَجُلٍ بَيْعَةً ، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا مِنْ مَكَانِهِمَا ، إِلا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ ، وَلا يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَقْبَلَهُ " ، .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص کسی دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کرتا ہے، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہو گا (کہ وہ سودے کو ختم کر دے)، جب تک وہ اپنی جگہ سے جدا نہیں ہو جاتے، ماسوائے اس صورت کے جب اس سودے میں اختیار دیا ہو اور کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس اندیشے کے تحت جدا ہو جائے کہ وہ اس سودے کو ختم کر دے گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2998
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 676، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4495، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6031، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1247، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10561، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2998، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6836»