سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2997
ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ سَعْدٍ بِسُلْتٍ وَشَعِيرٍ ، فَقَالَ سَعْدٌ : " تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِتَمْرٍ وَرُطَبٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلا إِذًا " .محمد محی الدین
شیخ ابوعیاش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد کے دور میں آدمیوں نے جو کی دو قسموں کے بارے میں سودا کر لیا، سیدنا سعد نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے خشک اور تر کھجور کا سودا کر لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کھجور جب خشک ہو جاتی ہے، کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(پھر یہ درست نہیں ہے)۔“