سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا أَبُو رَوْقٍ ، نَا ابْنُ خَلادٍ ، نَا مَعْنٌ ، نَا مَالِكٌ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ ، نَا الشَّافِعِيُّ ، أنا مَالِكٌ . ح وثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ وَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ بْنُ زِيَادٍ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْقَعْنَبِيُّ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدًا " عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : الْبَيْضَاءُ ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ سَعْدٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَمَّنِ اشْتَرَى التَّمْرَ بِالرُّطَبِ ، فَقَالَ : أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ " .عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ شیخ ابوعیاش زید نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے گندم کی دو قسموں کے بارے میں پوچھا گیا، تو سیدنا سعد نے ان سے دریافت کیا: ”ان دونوں میں سے کون سی قسم زیادہ بہتر ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”سفید والی۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا، سیدنا سعد نے بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ سے خشک کھجور کے عوض میں تر کھجور کا سودا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا کھجور جب خشک ہو جاتی ہے، تو کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔