سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2995
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، نَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ ، مِنْ حِفْظِهِ ، سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ سَأَلَ سَعْدًا ، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَكَرِهَهُ ، وَقَالَ سَعْدٌ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ، وَقَالَ فِيهِ : إِنَّهُ إِذَا يَبِسَ نَقَصَ " .محمد محی الدین
عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں: شیخ ابوعیاش نے سیدنا سعد سے گندم کی دو قسموں کے بارے میں دریافت کیا (کیا ان کا آپس میں لین دین کیا جا سکتا ہے)، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے مکروہ قرار دیا، بعد میں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجوروں کے عوض خشک کھجوروں کا سودا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب وہ خشک ہو جاتی ہیں، تو کم ہو جاتی ہیں۔“