سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2991
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادٌ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا حَتَّى يُعْلَمَ " .محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نامعلوم چیز کا سودا کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اس کے بارے میں آگاہی نہ حاصل ہو جائے۔