سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2990
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالُوا : نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلا أَنْ يُعْلَمَ " .محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے منع کیا ہے اور ثنیا سے منع کیا ہے، البتہ اگر اس کے بارے میں علم ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔