حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا الْفَارِسِيُّ ثنا إِسْحَاقُ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، وَثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ بِوَاسِطَ ، نا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، وَثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ الرَّاسِبِيُّ ، نا الْوَلِيدُ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا : نا زَائِدَةُ ، نا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ : جَلَسَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَعْدَ مَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبَةِ ، ثُمَّ قَالَ لِغُلامِهِ : " ائْتِنِي بِطَهُورٍ " ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، وَطَسْتٍ وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ : كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَغَرَفَ بِيَدِهِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ " . وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ الْكَلِمَةَ وَالشَّيْءَ ، وَمَعْنَاهُ قَرِيبٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

عبدخیر بیان کرتے ہیں: ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد باہر میدان میں آکر بیٹھ گئے، پھر آپ نے اپنے خادم سے یہ ارشاد فرمایا: ”وضو کا پانی لے کر آؤ!“ وہ خادم ایک برتن میں پانی لے کر آیا اور ساتھ ایک طشت لے آیا۔ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ہی دیکھ رہے تھے، انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن کو پکڑا اور اس کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیل کر اپنے ہاتھوں کو دھو لیا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا۔ عبدخیر نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس میں سے ہر ایک مرتبہ میں انہوں نے اپنا ہاتھ برتن کے اندر داخل نہیں کیا بلکہ برتن سے پانی انڈیل کر تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور (پانی لے کر) اس کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ انہوں نے بائیں ہاتھ کے ذریعے ناک کو اندر سے صاف کیا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، اس کے بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا، اس کے بعد انہوں نے اپنا دایاں بازو کہنی تک تین مرتبہ دھویا اور اپنا بایاں بازو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ ان کا ہاتھ پانی سے بھر گیا، پھر انہوں نے اسے اس پانی سمیت بلند کیا اور پھر اپنا بایاں ہاتھ اس پر پھیرا اور دونوں ہاتھوں کے ذریعے ایک مرتبہ سر کا مسح کر لیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ کے ذریعے اس پاؤں کو تین مرتبہ دھو لیا، انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ کے ذریعے اسے بھی دھو لیا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے چلو میں کچھ پانی سے کر اسے پی لیا، پھر یہ بات ارشاد فرمایا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کو دیکھ لے، تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔“ بعض راویوں نے اس روایت کے بعض الفاظ میں کچھ کمی و بیشی نقل کی ہے، تاہم ان سب کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے اور مستند طور پر ثابت ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 299
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5615، 5616، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 16، 147، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1056، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 91 ، ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 111، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 44، 48،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 396، 404، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 298، 299، 300،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 939، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 593»