سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2987
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَأَنْ يُبَاعَ الرُّطَبُ بِالْيَابِسِ كَيْلا " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ تر کھجور کو خشک کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کیا جائے۔