سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2983
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى ، نَا الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْرِجَ بَنِي النَّضِيرِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّكَ أَمَرْتَ بِإِخْرَاجِنَا وَلَنَا عَلَى النَّاسِ دُيُونٌ لَمْ تُحَلَّ ، قَالَ : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " ، اضْطَرَبَ فِي إِسْنَادِهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، ضَعِيفٌ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ثِقَةٌ إِلا أَنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدِ اضْطَرَبَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو (مدینہ منورہ سے) نکالنے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں نکالنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ہم نے لوگوں سے قرض لیے ہیں، جو ابھی وصول نہیں ہوئے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ معاف کر دو اور تیزی سے یہاں سے نکل جاؤ۔“