سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِجْلاءِ بَنِي النَّضِيرِ ، قَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، " إِنَّ لَنَا دُيُونًا عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلاوطن کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! ہم نے لوگوں سے کچھ قرض لیے ہیں۔“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں معاف کر دو اور جلدی سے یہاں سے چلے جاؤ۔“