سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، نا أَبُو حَنِيفَةَ ، وَثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُوذِيُّ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي ، نا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، نا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَامِلا فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . وَقَالَ شُعَيْبٌ : " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " . هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، قَالَ فِيهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاثًا . وَخَالَفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ مِنْهُمْ : زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَشُعْبَةُ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَشَرِيكٌ ، وَأَبُو الأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعْدٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَأَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ ، وَعَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حُيَيٍّ ، وَحَازِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، وَجَعْفَرٌ الأَحْمَرُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ فَقَالُوا فِيهِ " وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً " . إِلا أَنَّ حَجَّاجًا مِنْ بَيْنِهِمْ جَعَلَ مَكَانَ عَبْدِ خَيْرٍ عَمْرًا ذَامِرَ ، وَوَهِمَ فِيهِ وَلا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْهُمْ ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاثًا غَيْرَ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَمَعَ خِلافِ أَبِي حَنِيفَةَ فِيمَا رَوَى لِسَائِرِ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَدْ خَالَفَ فِي حُكْمِ الْمَسْحِ فِيمَا رَوَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ السُّنَّةَ فِي الْوُضُوءِ مَسْحُ الرَّأْسِ مَرَّةً وَاحِدَةً . وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، وَأَبُو يُوسُفَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ.عبدخیر نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: ”انہوں نے وضو کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پہلے دھوئے، پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا اور پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھو لیے اور پھر یہ ارشاد فرمایا: ’جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ دیکھ لے، تو وہ اس طریقے کو دیکھ لے۔‘“ شعیب نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ ابوحنیفہ نامی راوی نے اس روایت کو خالد نامی راوی کے حوالے سے نقل کیا ہے، اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا تھا، جبکہ محدثین کی ایک جماعت نے بھی اس روایت کو دیگر حوالوں سے نقل کیا ہے اور اس میں سر کا مسح ایک مرتبہ کرنے کا ذکر ہے۔ ان دیگر محدثین میں سے صرف حجاج نامی راوی کو ایک مقام پر وہم ہوا ہے، انہوں نے عبدخیر نامی راوی کی جگہ عمرو ذامر نامی راوی کا ذکر کیا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق امام ابوحنیفہ کے علاوہ اور کسی بھی راوی نے سر کا مسح تین مرتبہ کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے اپنی روایت میں دیگر راویوں سے مختلف بات نقل کی ہے، جبکہ دوسری طرف مسح کے حکم کے بارے میں بھی ان کی اپنی رائے مختلف ہے اس روایت سے، جسے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے، کیونکہ امام ابوحنیفہ بھی یہ بات بیان کرتے ہیں: ”وضو میں سر کا مسح ایک مرتبہ کرنا سنت ہے۔“ اس بات کو ابراہیم بن ابویحییٰ اور قاضی ابویوسف نے اپنی سند کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔