سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2979
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا عَطِيَّةُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي لَوْذَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلا يَشْتَرِطْ عَلَى صَاحِبِهِ غَيْرَ قَضَائِهِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص بیع سلف کرے، تو طے شدہ ادائیگی کے علاوہ کسی چیز کی ادائیگی کی شرط عائد نہ کرے۔“