سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ ، وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ ، قَالُوا : نَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلا يَصْرِفْهُ فِي غَيْرِهِ " ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ : فَلا يَأْخُذْ إِلا مَا أَسْلَمَ فِيهِ أَوْ رَأْسَ مَالِهِ.محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی چیز کے بارے میں نقد سودا کرے، تو ادائیگی کے طور پر (دی جانے والی چیز میں کوئی) تبدیلی نہ کرے۔“ ابراہیم بن سعید کہتے ہیں: یعنی وہ اسی چیز کو حاصل کرے، جس کے بارے میں اس نے نقد سودا کیا تھا یا وہی معاوضہ ادا کرے، جس کی شرط پر اس نے نقد سودا کیا تھا۔