سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2975
ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَهَبَ هِبَةً فَارْتَجَعَ بِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا ، وَلَكِنَّهُ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی چیز ہبہ کرتا ہے، پھر وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے، تو وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہو گا، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہیں لیتا، تاہم اس کی مثال اس کتے کی مانند ہو گی، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“