سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2969
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَهَبَ هِبَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا " ، لا يَثْبُتُ هَذَا مَرْفُوعًا ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ مَوْقُوفًا.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی چیز ہبہ کرتا ہے، تو وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہ لے۔“ یہ روایت مرفوع ہونے کے طور پر مستند طور پر ثابت نہیں ہے، درست یہ ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔