سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ دَعَاهُ رَجُلٌ فَأَشْهَدَهُ عَلَى وَصِيَّةٍ فَإِذَا هُوَ قَدْ آثَرَ بَعْضَ وَلَدِهِ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْهَدَ عَلَى جَوْرٍ ، وَقَالَ : مَنْ شَهِدَ عَلَى جَوْرٍ فَهُوَ شَاهِدُ زُورٍ ، ثُمَّ أَسْرَعَ الْمَشْيَ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص نے انہیں بلایا اور اپنی وصیت کے بارے میں انہیں گواہ بنانا چاہا، تو اس نے وصیت میں اپنی بعض اولاد کو دوسری اولاد پر ترجیح دی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم کسی زیادتی کے کام میں گواہ بنیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی زیادتی کے کام پر گواہ بنتا ہے، وہ جھوٹے گواہ کی مانند ہوتا ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تیزی سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے۔