سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2964
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : " نَحَلَنِي أَبِي غُلامًا فَأَمَرَتْنِي أُمِّي أَنْ أَذْهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُشْهِدَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَارْدُدْهُ " ، .محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے عطیے کے طور پر غلام دیا، تو میری والدہ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں، تاکہ میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے والد سے) دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اسے تم واپس لے لو۔“