سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مثل الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلا إِذَنْ ، وَقَالَ الْمَحَامِلِيُّ : أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " .سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور بولے: ”آپ اس بات پر گواہ بن جائیں کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنا مال نعمان کو دے دیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو عطیے کے طور پر اتنی ہی ادائیگی کی ہے، جتنی تم نے نعمان کو دی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ وہ سب (یعنی تمہاری اولاد) تمہارے ساتھ ایک جیسا اچھا سلوک کرے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو۔“ محامل کہتے ہیں: (روایت میں یہ الفاظ ہیں) ”کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“