سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2961M3
ثنا ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا رَوْحٌ ، نَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ شُرَيْحًا ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " .محمد محی الدین
قاضی شریح بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے عاریت کے طور پر چیز لی ہو اور جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر چیز رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر وہ دھوکے دینے والے ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔