سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، نَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ تَفْسِيرِ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، قَالَ : أَسْلَمَ قَوْمٌ وَفِي أَيْدِيهِمْ عَوَارِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالُوا : قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلامُ مَا بِأَيْدِينَا مِنْ عَوَارِي الْمُشْرِكِينَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الإِسْلامُ لا يُحْرِزُ لَكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمُ ، الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ " ، فَأَدَّى الْقَوْمُ مَا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ تِلْكَ الْعَوَارِي ، هَذَا مُرْسَلٌ وَلا تَقُومُ بِهِ حَجَّةٌ.عطاء بن ابی رباح نے روایت کے یہ الفاظ (عارضی طور پر لی گئی چیز واپس کی جائے گی) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے کہ ایک قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس کچھ ایسی چیزیں تھیں، جو مشرکین سے انہوں نے عارضی استعمال کے لیے لی تھیں، ان لوگوں نے یہ کہا: اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مشرکین کی یہ اشیاء، جو ہمارے پاس ہیں یا ہمارے پاس آ گئی ہیں، جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام تمہیں ایسی کسی چیز پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جو تمہاری ملکیت نہ ہو، عارضی استعمال کے لیے لی گئی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو پھر ان لوگوں نے (مشرکین کی) وہ چیزیں انہیں واپس کر دیں۔