سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2957
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاحٍ ؟ " ، قَالَ : عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا ؟ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ .محمد محی الدین
عطاء نے عبداللہ بن صفوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے صفوان! کیا تمہارے پاس کچھ اسلحہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”آپ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں یا غصب کریں گے؟“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔