سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَدْرَاعًا ، فَقَالَ : أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ ؟ ، قَالَ : بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ ؟ ، قَالَ : فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْمَنَهَا ، فَقَالَ : أَنَا الْيَوْمَ فِي الإِسْلامِ أَرْغَبُ " .امیہ بن صفوان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے کچھ زرہیں ادھار مانگیں، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! کیا غصب کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان بھی ادا کیا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان میں سے کچھ زرہیں خراب ہو گئیں، تو نبی نے انہیں یہ پیش کش کی کہ وہ ان کا تاوان لیں، تو انہوں نے عرض کی کہ اب میں اسلام کی طرف راغب ہو چکا ہوں اور مجھے اس میں زیادہ دل چسپی ہے۔