سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْفَضْلُ الأَعْرَجُ ، نَا نَصْرُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ كَذَا وَكَذَا ، أُرَاهُ قَالَ : ثَلاثِينَ دِرْعًا ، أَوْ قَالَ : ثَلاثِينَ بَعِيرًا ، قُلْتُ : وَالْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .محمد محی الدین
صفوان بن یعلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب میرا قاصد تمہارے پاس آئے، تو انہیں یہ چیز دے دینا۔“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے تیس زرہوں اور تیس اونٹوں کا ذکر کیا تھا۔ سیدنا یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”کیا یہ ادھار لے رہے ہیں، جسے واپس کر دیں گے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“