سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2951
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا صَالِحُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرَاعًا وَسِلاحًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ عارضی طور پر لیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر ہے، جسے واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عارضی طور پر لیا ہے، جسے واپس کیا جائے گا۔“