ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو رَوَّادٍ بِمِصْرَ ، نَا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَجْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، كَانَ يَقُولُ : " كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ : إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ التَّمْرُ مُرَاقٌّ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ ، عَاهَاتٌ كَانُوا يَحْتَجُّونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ : أَمَا لا فَلا تَبْتَاعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُ الثَّمَرِ ، كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ " .سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے، جب فصل کاٹنے کا وقت ہوتا، تو قرض وصولی کرنے والا آ جاتا، تو جس نے ادائیگی کرنی ہوتی، وہ یہ کہتا تھا: اس دفعہ پیداوار کو فلاں آفت لاحق ہو گئی ہے، اس میں یہ خرابی آ گئی ہے، مختلف طرح کی آفات کا تذکرہ کرتے، جن کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مقدمات ہونے لگے، جب یہ مقدمات زیادہ ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم اس وقت تک سودا نہ کرو، جب تک پھل پک کر تیار نہیں ہو جاتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے طور پر یہ بات کی تھی، کیونکہ اس بارے میں لوگوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہونے لگا تھا۔