ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " خَرَجَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَإِذَا هُوَ بِزَرْعٍ تَهْتَزُّ ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذَا الزَّرْعُ ؟ ، قَالُوا : لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَكَانَ أَخَذَ الأَرْضَ بِالنِّصْفِ أَوْ بِالثُّلُثِ ، فَقَالَ : انْظُرْ نَفَقَتَكَ فِي هَذِهِ الأَرْضِ فَخُذْهَا مِنْ صَاحِبِ الأَرْضِ ، وَادْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ وَزَرْعَهُ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے ایک کھیت کو دیکھا، جو لہلہا رہا تھا، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کھیت کس کا ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: یہ کھیت سیدنا رافع بن خدیج کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، وہ نصف یا ایک تہائی پیداوار کے عوض میں زمین (کرائے پر) لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس زمین میں جو خرچ کیا ہے، اس کا حساب لگاؤ اور پھر زمین کے مالک سے اسے لے لو اور اس شخص کی زمین اور اس کا کھیت اس کے سپرد کر دو۔“