حدیث نمبر: 2939
وثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا تُزْرَعُ ثَلاثَةٌ ، رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا ، أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُهَا ، أَوْ رَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " .محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاشت کاری تین طرح کی ہوتی ہے: ایک یہ کہ کسی شخص کی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے، ایک وہ شخص جسے عطیے کے طور پر کوئی زمین دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور ایک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے عوض میں زمین کرائے پر حاصل کرے (تو وہ اس میں کاشت کر سکتا ہے)۔“