ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى وَ ، هِشَامٍ ابْنِي عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ اخْتَصَمَا فِي أَرْضٍ غَرَسَ أَحَدُهُمَا فِيهَا نَخْلا وَالأَرْضُ لِلآخَرِ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَ لِصَاحِبِهَا ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ ، وَقَالَ : مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا ، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ " ، قَالَ : فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ رَأَى النَّخْلَ وَهِيَ عَمٌّ ، تُقْلَعُ أُصُولُهَا بِالْفُؤُوسِ ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : الْعَمُّ : الشَّبَابُ ، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ ، قَالَ : " أَنْ تَأْتِيَ أَرْضَ غَيْرِكَ فَتَزْرَعَ فِيهَا ".عروہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا ہوا، ان دونوں میں سے ایک نے وہاں کھجور کا درخت لگایا تھا اور زمین دوسرے کی ملکیت تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ زمین اس کے مالک کو مل جائے گی، آپ نے کھجور لگانے والے سے کہا کہ تم اپنے درخت کو وہاں سے نکال لو، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی بے آباد جگہ کو آباد کرتا ہے، وہ اس آباد کرنے والے کو مل جاتی ہے، لیکن کوئی شخص کسی دوسرے کی زمین پر (زبردستی) کچھ نہیں لگا سکتا۔“ راوی کہتے ہیں: جن صاحب نے مجھے یہ روایت سنائی، انہوں نے یہ بتایا کہ انہوں نے اس کھجور کے درخت کو دیکھا ہے کہ بہت اونچا لمبا تھا، جس کی جڑیں کلہاڑی کے ذریعے کاٹی گئی تھیں۔ روایت کے یہ الفاظ کسی ظالم کے لیے نہیں ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ تم کسی دوسرے کی زمین میں جاؤ اور وہاں کاشت شروع کر دو (یعنی اس کی مرضی کے بغیر ایسا کرو)۔