حدیث نمبر: 2915
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مَوْلًى لأُمِّ حَبِيبَةَ أَفْلَسَ ، فَأُتِيَ بِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَضَى فِيهِ عُثْمَانُ ، " أَنْ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ ، وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام کو مفلس قرار دے دیا گیا، اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، تو اس کے بارے میں سیدنا عثمان نے یہ فیصلہ دیا: ”اس کے مفلس ہونے سے پہلے جس شخص نے اپنے حق میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، وہ اس کا ہوا اور جو شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے، وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“