ثنا ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ " فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ فَيُضِيعُ ، قَالَ : إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ " .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو کوئی چیز گروی رکھتا اور پھر وہ ضائع ہو جاتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس چیز کے عوض اسے گروی رکھا گیا تھا، اگر وہ اس سے کم ہے، تو وہ اپنے پورے حق کو واپس کرے گا اور اگر اس سے زیادہ ہے، تو امانت دار ہو گا۔“
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ " فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ الرَّهْنَ فَيُضِيعُ ، قَالَ : إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ " .عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا ہے، جو کوئی چیز گروی رکھتا ہے اور پھر اسے ضائع کر دیتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر یہ ایسی چیز سے کم ہو، جس کے عوض میں اسے گروی رکھا گیا تھا، تو اس کے تمام حق کو اسے واپس کیا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہو، تو وہ شخص امانت دار ہو گا۔“