سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي جَوَازِ تَقْدِيمِ غَسْلِ الْيَدِ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى باب: : (وضو کے دوران) دائیں ہاتھ سے پہلے بائیں ہاتھ کو دھو لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 291
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا أَبْدَأُ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْيَمِينِ فِي الْوُضُوءِ ؟ " فَأَضْرَطَ بِهِ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَبَدَأَ بِشِمَالِهِ قَبْلَ يَمِينِهِ " .محمد محی الدین
زیاد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”میں وضو کے دوران اپنے دائیں ہاتھ سے پہلے بائیں ہاتھ کو دھو سکتا ہوں؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور دائیں ہاتھ سے پہلے بائیں ہاتھ کو دھو لیا۔